حروفِ مہموسہ
یہ حروف تعداد میں ٹوٹل دس ہیں، یعنی "ہ، ح، ک، س، ف، ص، ش، ت، ث، خ"۔
ان حروف کو "حروفِ خفا" یعنی پوشیدہ حروف بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی آواز میں ایک قسم کی سرگوشی اور ہوا کا اخراج شامل ہوتا ہے۔ روحانیت میں انہیں "حروفِ لطیفہ" بھی کہا جاتا ہے۔
ان حروف کو ادا کرتے وقت آواز دھیمی ہوتی ہے اور سانس کی نالی کھلی رہتی ہے، جس سے سانس کی آواز نمایاں ہوتی ہے۔ یہ حروف سختی کے بجائے "نرمی" اور "خفا" کی علامت ہیں۔
ان حروف کی تاثیر گرمی اور شدت کو کم کرنے والی ہے۔ اگر کسی جگہ غصہ یا تناؤ زیادہ ہو، تو ان حروف کے نقوش وہاں سکون لانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
چونکہ ان کا مجموعہ "خاموشی" یعنی سکت پر ختم ہوتا ہے، اس لیے یہ دشمن کی زبان بندی اور فتنہ پرور لوگوں کو خاموش کرانے کے لیے نہایت موثر ہیں۔
طبی روحانیت میں ان حروف کا تعلق سانس اور پھیپھڑوں کے امراض سے ہے، کیونکہ ان کی ادائیگی براہِ راست سانس کی روانی سے وابستہ ہے۔
روحانیت میں یہ حروف "اسرارِ الہیٰ" کو چھپانے اور باطنی پاکیزگی کے لیے کلیدی مانے جاتے ہیں۔
ان حروف کا ورد انسان کے اخلاق میں نرمی پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جو "جلال" کو "جمال" میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے اسرار یا روحانی احوال پوشیدہ رہیں، وہ ان حروف کی روحانیت سے مدد لیتے ہیں۔ 'خ' یعنی خفی اور 'ص' یعنی صمد باطنی گہرائیوں کی علامت ہیں۔ 'ح' یعنی حی اور 'ہ' یعنی ہادی جیسے حروف نفس کی پاکیزگی اور اللہ کی طرف رجوع میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان حروف کے عامل کا باطن روشن اور شفاف ہو جاتا ہے۔
ان حروف کی زکوٰۃ ادا کرنے والے کے اندر "ہاتفِ غیبی" یعنی غیبی آواز سننے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، کیونکہ ان کا تعلق سرگوشی اور لطیف آوازوں سے ہے۔
Post a Comment