حروفِ اعظم
یہ حروف تعداد میں ٹوٹل گیارہ ہیں، یعنی "ا، د، ھ، ح، ط، ک، ل، م، ع، ص، ش"۔
ان حروف غیر معمولی روحانی وسعت کی بنا پر "حروفِ اعظم" کہا جاتا ہے۔ ان حروف کی اصل طاقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کی بنیاد ہیں۔
انہیں "حروفِ نوارنی کا نچوڑ" اور "ارواحِ علویہ" بھی کہا جاتا ہے۔مادی زندگی میں ان حروف کا اثر "حلِ مشکلات" کے لیے تیر بہدف ہے۔
یہ حروف ہر قسم کی مشکل، چاہے وہ عدالت ہو، رزق کی تنگی ہو یا دشمن کا خوف، اسے فوری حل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
حادثات، ناگہانی آفتوں اور وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے ان حروف کا نقش پاس رکھنا نہایت مبارک مانا جاتا ہے۔
روحانیت میں ان حروف کو "باطنی کنجی" تسلیم کیا جاتا ہے۔
ان حروف کے عامل پر کائنات کے مخفی اسرار منکشف ہونے لگتے ہیں۔ ان حروف کی برکت سے باطنی آنکھ کو جلا ملتی ہے۔
یہ حروف اسمِ اعظم کا جزو ہونے کی وجہ سے دعا کی قبولیت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان کا ورد کرنے والا اللہ کی خاص پناہ میں رہتا ہے۔
یہ حروف انسان کے اندر سے غرور اور تکبر کو ختم کر کے اسے عاجزی اور "فنا" کے مقام تک لے جانے میں مددگار ہوتے ہیں۔
علمِ جفر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان حروف کو ان کی صحیح ترتیب "ادھحط کلمع صش" کے ساتھ کسی پاک برتن پر لکھ کر اسے دھو کر پیا جائے تو یادداشت یعنی حافظہ تیز ہو جاتا ہے اور باطنی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔
Post a Comment