Header Ads

 حروفِ تسخیر

‎یہ حروف تعداد میں ٹوٹل دس ہیں، یعنی "ا، ب، د، ح، ک، م، ق، ر، ت، ض

‎آپ نے علمِ جفر کے ایک نہایت طاقتور اور جاہ و جلال والے گروہ کا ذکر کیا ہے۔

‎ان حروف کو ان کی غیر معمولی قوتِ اثر کی وجہ سے "حروفِ تسخیر" کہا جاتا ہے۔ یہ حروف کائنات کی قوتوں اور مخلوقات کو مسخر کرنے یعنی اپنے زیرِ اثر لانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں

‎روحانیت میں ان حروف کو "حروفِ سطوت" یعنی دبدبے والے حروف اور "عناصرِ غلبہ" بھی کہا جاتا ہے۔

‎انہیں "مفاتیح التسخیر" یعنی تسخیر کی چابیاں بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بند دروازوں کو کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

‎اگر کوئی شخص جائز مقصد کے لیے کسی بااثر فرد یا حاکم کو اپنے حق میں نرم کرنا چاہتا ہو، تو ان حروف کی روحانیت استعمال کی جاتی ہے۔

‎یہ حروف مخالفین کی زبان بندی اور ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے حصار کا کام کرتے ہیں۔

‎ان حروف کے عامل کو معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی شخصیت میں ایک ایسی ہیبت پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اس کا احترام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

‎ان حروف کا ورد انسان کے اندر کی سوئی ہوئی قوتوں کو بیدار کرتا ہے، جس سے اس کا "عزم" اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ وہ جو سوچتا ہے اسے کر گزرتا ہے۔

‎ان حروف کے عاملین کو کائنات کے بعض مخفی امور پر تصرف حاصل ہو جاتا ہے۔ اسے "روحانی مقناطیسیت" بھی کہا جاتا ہے۔

‎تسخیر کا پہلا زینہ اپنے نفس کو مسخر کرنا ہے۔ یہ حروف انسان کو اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔

‎ان حروف کی روحانیت سالک کے گرد ایک نوری ہالہ بنا دیتی ہے، جو اسے منفی توانائیوں اور شیطانی حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

No comments