حروفِ ثمر
یہ حروف تعداد میں ٹوٹل آٹھ ہیں، یعنی "ا، ب، ی، ک، ن، ق، ث، غ". مجموعہ "اَبیکُن قثغ" بنتا ہے۔
اں حروف کو "حروفِ ثمر" کے علاوہ "حروفِ زبدہ" یا "عناصرِ ثمار" بھی کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ حروف کسی بھی ادھورے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور محنت کا پھل حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
مادی دنیا میں وسعتِ رزق اور مال و دولت میں اضافے کے لیے ان حروف کے نقوش (خصوصاً مربع نقش) نہایت اکسیر مانے جاتے ہیں۔
ان حروف میں 'ق' اور 'غ' کی موجودگی دشمن پر غلبہ اور مخالفین کے سامنے رعب و دبدبہ پیدا کرنے کے لیے موثر ہے۔
'الف' اللہ کی وحدانیت کا مظہر ہے اور 'ی' انتہا کی۔ ان کا ورد باطن کو روشن کرتا ہے اور سالک کو معرفتِ الٰہی کی طرف راغب کرتا ہے۔
ان حروف کو "حروفِ حصار" بھی کہا جاتا ہے۔ باطنی طور پر یہ انسان کے ہالے یعنی Aura کو مضبوط کرتے ہیں، جس سے جادو، نظرِ بد اور شیطانی اثرات داخل نہیں ہو پاتے۔
ان حروف کے عامل کا ارادہ اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ وہ جس کام کا قصد کرتا ہے، غیب سے اس کے اسباب پیدا ہونے لگتے ہیں۔
حرف غین کا باطنی خاصہ "غیب" کے پردے چاک کرنا ہے۔ ان حروف کی زکوٰۃ ادا کرنے والے پر خوابوں یا الہام کے ذریعے حقائق واضح ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
Post a Comment