حروف قوت
یہ حروف تعداد میں سات یعنی "ا، ج، ہ، م، ی، ث، غ" ہیں۔ ان کا مجموعہ "اَجْھَمٍ یَثَغٍ" (Ajhamin Yasaghin) بنتا ہے۔ علمِ جعفر اور روحانیات میں ان حروف کو "حروفِ قوت" کے علاوہ "حروفِ کواکب" یا "حروفِ سبعہ" (سات حروف) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ ان میں سے ہر حرف ایک خاص ستارے اور خاص قوت سے منسوب ہے۔
ان حروف کا مجموعہ پڑھنے والے کے رعب اور دبدبے میں اضافہ کرتا ہے۔ لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔
مقابلے یا مناظرے کی صورت میں ان حروف کی قوت مخالف کو زیر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
یہ حروف انسان کے گرد ایک ایسا غیر مرئی (پوشیدہ) حصار بناتے ہیں جس سے وہ ظاہری دشمنوں اور حاسدوں کے وار سے محفوظ رہتا ہے۔
ان حروف کے ورد سے سستی دور ہوتی ہے اور انسان میں کام کرنے کی جسمانی ہمت (Vigor) پیدا ہوتی ہے۔
ان حروف کا سب سے بڑا باطنی خاصہ یہ ہے کہ یہ انسان کے عزم کو پختہ کرتے ہیں۔ وسوسوں اور تذبذب (شک) کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔
حروفِ قوت ہونے کے ناطے یہ نفسِ امارہ کو قابو کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاکہ انسان اپنی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے ان پر غالب آ سکے۔
یہ حروف سالک کو باطنی طور پر پہاڑ کی طرح مضبوط بنا دیتے ہیں، تاکہ وہ روحانی راستے کی مشکلات اور آزمائشوں میں گھبرائے نہیں۔
علمِ سیمیا کے مطابق ان سات حروف کی نسبت سات بڑے کواکب سے یوں دی جاتی ہے:
الف (ا): سورج (شمس) - بلندی اور شہرت۔
جیم (ج): مشتری - علم اور سعادت۔
ھ (ھ): زہرہ - محبت اور کشش۔
میم (م): عطارد - عقل اور تدبیر۔
یا (ی): چاند (قمر) - تغیر اور صفائی۔
ثا (ث): زحل - ثبات اور سنجیدگی۔
غین (غ): مریخ - ہمت اور جلال۔
یہ مجموعہ "اَجْھَمٍ یَثَغٍ" انتہائی طاقتور ہے، اسی لیے اسے "حروفِ قوت" کہا جاتا ہے۔ اس کا استعمال اکثر بادشاہوں، جرنیلوں اور اہل اللہ نے بڑی مہمات کے وقت کیا ہے۔
Post a Comment