Header Ads

 حروفِ شدید

‎یہ حروف تعداد میں آٹھ میں یعنی "ا، ب، ج، د، ط، ق، ت" ہیں۔ ان آٹھ حروف کے مجموعے کو "اَبْجَدَطَقَتْ" کہا جاتا ہے۔ علمِ حروف کی اصطلاح میں انہیں حروفِ شدید کہا جاتا ہے۔ تجوید میں انہیں "شدیدہ" اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ان کی ادائیگی میں آواز رک جاتی ہے اور ایک قوت محسوس ہوتی ہے،

‎ان کے اندر موجود جلالی اور مضبوط اثرات کی وجہ سے۔

‎عملیات میں بعض ماہرین انہیں کاموں میں تیزی لانے کے لیے "قطب" کا درجہ دیتے ہیں۔

‎عملیات میں جب کسی کام میں بہت زیادہ رکاوٹ ہو یا کوئی کام بہت آہستہ چل رہا ہو، تو ان حروف کے نقوش استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ معاملے میں "شدت" اور "تیزی" آئے۔

‎ان حروف کی آوازوں میں ایک قسم کی ٹھوکر اور رکاوٹ ہے، جو ظاہری طور پر دشمن کے حملے کو روکنے کے لیے بہترین مانی جاتی ہے۔

‎طبیعاتی طور پر ایسے امراض جن میں جسم سست پڑ جائے یا خون کی گردش سست ہو، وہاں ان حروف کے جلالی اعداد سے حرارت پیدا کی جاتی ہے۔

‎وہ لوگ جو تذبذب کا شکار رہتے ہیں اور فیصلہ نہیں کر پاتے، ان حروف کا باطنی فیض ان کے اندر خود اعتمادی اور فیصلہ کن قوت پیدا کرتا ہے۔

‎یہ حروف باطنی طور پر "ہتھوڑے" کا کام کرتے ہیں۔ سالک اپنے نفس کی سرکشی کو کچلنے کے لیے ان کی ضربیں یعنی ذکر کی صورت میں استعمال کرتا ہے۔

‎ان حروف کی شدت باطل کے پردوں کو چاک کر دیتی ہے، جس سے باطنی بصیرت میں تیزی آتی ہے۔

‎جنگوں یا بڑے مقابلوں میں فتح پانے کے لیے ان حروف کو ڈھالوں یا انگوٹھیوں پر کندہ کیا جاتا تھا۔

‎اگر کسی کا دل بہت سخت ہو، تو ان حروف کی "شدت" کو "محبت" میں بدل کر تسخیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

‎ظالموں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے لیے ان حروف کے جلالی پہلو کو ابھارا جاتا ہے۔

‎سحر یا جادو کی وجہ سے اگر کسی کی ترقی رک گئی ہو، تو "اَبْجَدَطَقَتْ" کے اعداد کا نقش اس بندش کو "کاٹنے" کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

‎ا 1 ابتدا اور وحدت

‎ب 2 ظہور اور ہمت

‎ج 3 حرکت اور جوش

‎د 4 استحکام اور بقا

‎ط 9 احاطہ اور تسخیر

‎ک 20 کفایت اور مدد

‎ق 100 قوت اور غلبہ

‎ت 400 تکمیل اور انتہا

‎حروفِ شدید اپنے نام کی طرح اثر میں بھی بہت سخت ہوتے ہیں۔ ان کا بے جا ورد یا بغیر کسی مقصد کے تکرار مزاج میں غصہ، تندی اور بلڈ پریشر کی زیادتی کا سبب بن سکتا ہے۔

No comments