حروفِ حوائج
یہ حروف تعداد میں سات ہیں، "ب، ک، ف، ص، ق، ض، ظ"۔ مجموعے کے حساب سے "بکفصقضظ" بنتا ہے۔
حروفِ حوائج عام طور پر ان حروف یا کلمات کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو ضرورتوں کی تکمیل، حاجات کی برآوری اور مشکلات کے حل کے لیے وظائف کی صورت میں پڑھے جاتے ہیں۔ علمِ جعفر اور روحانیات کے ماہرین ان حروف کے خواص کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
ظاہری یعنی جو دنیاوی فوائد سے متعلق ہیں۔
اور
باطنی یعنی جو روح اور قلب کی صفائی سے متعلق ہیں۔
ان حروف کو پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنے سے نظرِ بد، حادثات اور ناگہانی آفتوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔ خاص طور پر "کہیعص" کو دشمن کے شر سے بچنے کے لیے پڑھا جاتا ہے۔
بعض بزرگانِ دین کے مطابق "الٓمّٓ" اور "حمٓ" کا ورد معاشی تنگی دور کرنے اور رزق میں برکت کے لیے تیر بہ ہدف ہے۔
جسمانی امراض مثلاً سر درد، بخار یا دائمی امراض کے لیے ان حروف کو پانی پر دم کر کے پینا موثر مانا جاتا ہے۔
کسی مشکل کام یا سرکاری کام میں رکاوٹ ہو تو مخصوص تعداد میں ان حروف کا ورد "وسیلہ" بنتا ہے۔
ان حروف کی تلاوت سے دل کے اندر کا اندھیرا ختم ہوتا ہے اور انسان کو نیکی کی طرف رغبت محسوس ہوتی ہے۔
یہ حروف اللہ اور بندے کے درمیان ایک "خفیہ تعلق" پیدا کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے معنی پوشیدہ ہیں، اس لیے ان کو پڑھتے وقت بندہ مکمل طور پر اللہ کی قدرت پر توکل کرتا ہے۔
ان حروف کے ورد سے انسان کے اندر موجود برے جذبات یعنی حسد، کینہ، غرور کی شدت میں کمی آتی ہے۔
صوفیاء کے نزدیک یہ حروف اللہ کی خاص تجلیات کے حامل ہیں۔ ان کا باقاعدہ ذکر کرنے والے پر کشف اور الہام کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
Post a Comment